!!!ضربِ عضب۔۔۔

جنگِ تبوک کی تیاری کے دوران جہاں منافقین نے مسلمانوں کی دل شکنی اور سازشوں کے سہارے اپنی بدکرداری کا مظاہرہ کیا وہاں انہوں نے ایک مسجد کی تعمیر بھی شروع کردی جسے تاریخ میں مسجدِضرارکے نام سے یاد کیا گیا ۔یہ مسجد ابو عامر (منافق) کے مشورے سے بنائی گئی تھی جو کہ زمانہ جاہلیت میں ایک عبادت گزار شخص تھا یہ شخص ظاہری طورپر مسلمان لیکن دل سے حضورﷺ کادشمن تھا یہ شخص غیر مسلم طاقتوں کو اسلام کے خلاف ابھارنے لگا۔اور میدانِ بدر میں کفارِمکہ کا مشیر اور مددگار بن کر سامنے آیا۔ بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی تو یہ شخص شاہِ ہرقل والی روم کے دربار پہنچا، اور اسے مدینے پاک پر حملہ کرنے کیلئے اکسایااور بالآخر پہلی بار رومی فوجیں اسلامی لشکر کے سامنے جنگِ تبوک میں کھڑی ہونے پر آمادہ ہوگئیں ساتھ ہی ساتھ اس شخص نے مدینے کے منافقین کو اس بات پر آمادہ کرلیا کے وہ علیحدہ علیحدہ مسجدیں بنائیں اور حضورﷺ کو بتائیں کہ اس مسجد میں بوڑھے، ضعیف اور بیمار لوگ نزدیک ہی نماز پڑھ لیا کریں گے حضورﷺ جنگِ تبوک سے واپس لوٹے اور مدینے میں ابھی داخل نہ ہو ئے تھے کہ وحی آگئی (سورتوبہ آیت 107 ) ترجمہ: ان لوگوں نے مسجد ضرار کو اس لئے تعمیر کیا ہے کہ وہ مسلمانوں میں تفریق ڈال سکیں۔ مسجد ضرار دراصل منا فقوں کی ایک چال ہے آپ اس میں نماز ادا نہ کریں اور نہ ان کی حوصلہ افزائی فرمائیں، حضورﷺ نے چار صحابہؓ کوطلب فرما کر حکم دیا کہ اس مسجد ضرار کو گراکر پیوستِ زمیں کردیا جائے۔(تفسیرِ نبوی جلد۔۵)کیونکہ یہ لوگ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کو بھکائیں گے۔تاریخِ اسلام اس طرح کے بیشمار واقعات سے بھری پڑی ہے جہا ں لوگ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر لوگوں کے سامنے دینِ اسلام کی غلط تشریح کر کے مسلمانوں کو دھوکا دیتے رہے ہیں۔ خواہ وہ مسیلمہ کذاب ہو یا پھر یزیدی فوج یہ لوگ دنیا میں بھی رسوا ہیں اور یقیناآخرت میں بھی ۔۔۔

ملکِ پاکستان میں جاری فوجی آپریشن ضربِ عضب بھی ان ہی قوتوں کے خلاف ہے جو پاکستان کو غیر مستحکم اور بالخصوص دینِ اسلام کو بدنام کرنے کے ہر ممکن حربے استعمال کرنے میں مصروفِ عمل ہیں، یہ دہشت گرد پاکستان کو معاشی اور معاشرتی طور پر مفلوج اور بے یارومددگار کرنے پر تلے ہوئے ہیں، افسوس اس بات کا ہے کہ ہماری جمہوری قوتیں بھی ان کے فتنہ سے دھوکا کھاگئی اور مذاکرات کی آڑ میں انھیں مزید منظم ہونے کا موقع فراہم کرتی رہی ہیں جس خونی گروہ کے ہاتھوں گزشتہ 10 پرسوں کے دوران پاکستان کے ہزاروں معصوم شہری قتل کئیے گئے ، افواجِ پاکستان اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے ہزاروں افسروں اور جوانوں کو دھو کے سے شہید کرتے رہے ،لاتعداد خودکش حملوں سے جنہوں پاک سر زمین کو جہنم زار بنانے کی کوشیش کی،دشمنانِ وجودِ پاکستان کے اشاروں پر جی۔ایچ۔کیو،مہران بیس ، سی آئی ڈی آفس ، کراچی ائیرپورٹ پر چڑھ دوڑے، اور بے گناہ لوگوں کو شہید کرکے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے وقار کو مجروح کیا، دشمنانِ اسلام سے اعانت حاصل کرکے جس گروہ نے سوات، مینگورہ ، بونیر ، مالاکنڈ، کراچی ، لاہور ، پشاور سمیت ملک کے تمام شہروں میں خون کی ندیاں بہائیں۔جنہوں نے مساجد کی تقدیس اور تحریم کی بھی پرواہ نہ کی اور نہتے مسلمانوں کو دورانِ سجود بم دھماکوں سے شہید کیا۔اجنہوں نے چرچ ، مندر کی بھی پرواہ نہ کی اور اقلیتوں کو بھی اپنی وحشیت کا نشانہ بنایا۔ جنہوں نے اولیاء اللہ کے مزارات کو بم دھماکوں سے اڑایا، معصوم بچیوں کی تعلیمی درسگاہوں کو بم دھماکوں سے اڑایا، اور دنیاوی تعلیم کو کفر سے تشبیہ دے کر معصوم قبائلیوں کو گمراہ کرتے رہے، بیچ بازار میں خواتین کو کوڑے مارے اور بربریت کی انتہا پر پہنچے تو فرنٹئیر کونسٹیبلری کے جوانوں کے گلے کاٹے اور ان کی وڈیو بنا کر میڈیا میں عام کردی ، ان لوگوں سے مذاکرات سوالیہ نشان ہے۔۔؟

پاکستان میں درجنوں کالعدم مذہبی عسکریت پسند تنظیمیں خفیہ طور پر اپنی سر گرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ان میں سرِ فہرست سپاہ محمد ، سپاہ صحابہ، جیشِ محمد ، لشکرِ جھنگوی، جماعت الفرقان ، حرکت المجاہدین ، جنداللہ، لشکرِ طیبہ، حرکت الجہاد اسلامی، تحریکِ طالبان پاکستان(متعدد گروپ) وغیرہ منظرِعام پر ہیں۔پاکستان میں موجود یہ جہادی عسکریت پسند اپنی کاروائیاں شروع کرنے سے قبل اکثر اپنے نام بھی تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ تحریکِ اسلامی لشکرمحمدی بھی ان ہی دہشت گرد تنظیموں میں سے ایک ہے جسے حرکت المجاہدین اور کالعدم جیشِ محمد کے ممبران نے لال مسجد کے ملٹری آپریشن کے بعد بنایا۔ ان نام نہاد دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کبھی ظاہری اور کبھی ڈھکے چھپے طریقوں سے کچھ سیاسی اور مذہبی جماعتیں جن میں جماعت اسلامی ، جمعیت علماء اسلام(ٖف) سرِ فہرست ہیں کرتی رہیں اور آج بھی ان جماعتوں نے افواجِ پاکستان کے اس آپریشن کی کھل کر مخالفت کی ہے۔ ان جماعتوں کو دوسروں کی آنکھ کا تنکا تو نظر آجاتا ہے، لیکن اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا۔ ان جماعتوں کو ملک میں ہونے والی دہشت گردی میں راء ، بلیک واٹر ، اسرائیل اور ہندوستان تو نظر آجاتا ہے لیکن اپنے اردگرد کے لوگ دکھائی نہیں دیتے ، یہ جماعتیں محبِ وطن ادارہ (آئی-ایس-آئی)  اور افواجِ پاکستان کے بجٹ پر چیختے چلاتے رہتے ہیں لیکن طالبان کی خفیہ فنڈنگ اور اس کے ذرائع کی چھان بین پر کبھی کان نہیں دھرتے۔نیٹو سپلائی کی ترسیل پر تو دھرنے دیتے رہے لیکن کبھی بھی ان کو کراچی میں آنے والے دہشت گرد اور اسلحے سے بھرے ٹرک اور ان کا روڈ میپ نظر نہیں آتا۔ متعد د بارخفیہ ایجنسیوں نے پنجاب اور کراچی یونیورسٹی سے جماعتِ اسلامی کی ذیلی جماعت اسلامی جمعیت طلبہ کے ذمہ داران کو القاعدہ اور طالبان کے ورکرز کے ساتھ پکڑاجو کہ تعلیمی اداروں میں جرائم پھیلانے میں ملوث رہے ہیں۔

ٓآخر میں افواج پاکستان جو کہ وزیرستان میں ان دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے میں مصروفِ عمل ہے ان سے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ خدارا طالبان کیخلاف آپریشن واحد حل نہیں ہے، ان کا نیٹ ورک صرف وزیرستان تک ہی محدود نہیں بلکہ ملک کے چپے چپے پر پھیل چکا ہے، ان سے عسکری لڑائی کے ساتھ ساتھ نظریاتی لڑائی بھی لڑنا ہوگی، گزشتہ ایک دھائی میں طالبان نے دہشت گردی کا جو بیج خیبر پختون خواہ کے عوام کے ذہنوں میں بویا ہے اسے جڑسے نکالنا پڑے گا، ساتھ ساتھ ان سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا بھی محاسبہ کرنا پڑے گا جو اپنے مضموم مقاصد کے حصول کے لئے دہشت گردی کے پودے کو پانی دیتے رہے ، ورنہ دہشت گردی کا درخت تو کٹ جائے گالیکن اس کی جڑیں اپنی جگہ موجود رہیں گی۔ قائد متحدہ قومی موومنٹ جناب الطاف حسین گزشتہ ۸ سالوں سے اس سنگین مسئلے کی جانب حکومتِ وقت اور افواجِ پاکستان کو اپنے انٹرویوز اور لیکچرز کے ذریعے آگا ہ کرتے رہے جو کہ ریکارڈ کا حصہ ہیں، لیکن کچھ سیاستدانون نے ان کی باتوں کا مذاق بنا کر عوام میں پیش کیا اور آج نتیجہ یہ کہ یہ دہشت گردکراچی جو کہ پاکستان کا معاشی حب ہے اس کے چپے چپے میں بھی پھیل چکے ہیں اور دہشت گردی کی کاردائیوں میں مصروفِ عمل ہیں۔ الطاف حسین کے لیکچرر پر مشتمل کتاب بنام اسلام کی تشریحِ نو کا مطا لعہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ 

شمالی وزیرستان سے نکل مکانی کرنے والے مہاجرین کے بہتر مستقبل کی خاطر حکومت اور افواجِ پاکستان کے ساتھ ساتھ متعدد این-جی-اوز بھی متحرک ہیں اور اربوں روپے کا فنڈ بھی قائم کردیا گیا ہے، ان لوگوں کی مالی معاونت، کھانا پینا ،علاج ومعالجہ کے ساتھ ساتھ ذہنی نشونما بھی اہم ترجیحات ہونی چاہییں، اگر اربوں روپے کے فنڈز کے ساتھ ساتھ ان 40000 خاندانوں(آئی-ڈی-پیز) کی کفالت کی ذمہ داری چالیس ہزار مخیر حضرات لے لیں اور ان کی رجسٹریشن کر کے انہیں ان کے حوالے کردیا جائے تو بہتر نتائج حاصل کئے جا سکئے ہیں۔آئی ڈی پیز میں شامل پڑھے لکھے لوگوں کو نوکریاں دے کر اور ہنر مند لوگوں کو ہنر کے بہترین مواقع فراہم کرکے انھیں اپنے پیرو پر کھڑا کیا جاسکتا ہے۔۔۔ 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s